سعودی عرب میں پاکستانیوں کی انتہائی دردناک صورتحال ۔۔۔
سعودی عرب میں وفات پانے والے اپنی رہائش گاہوں میں سڑنے لگے؛ لوگوں نے میتوں کے ارد گرد برف کے تھیلے رکھنا شروع کئے ۔۔۔ ایمبولینس اور ہسپتال والے میتوں کو لینے نہیں آرہے ہیں کہ ہمارے پاس سرد خانوں میں جگہ نہیں جبکہ ریاض میں موجود پاکستانی سفارتخانے کو بار بار فون کررہے ہیں
مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہورہے
کل دیر پائین سے تعلق رکھنے والے سات افراد کی تدفین کی گئی جبکہ آج دیر پائین ہی سے تعلق رکھنے والے9 مزید کی وفات ہوچکی ہیں ۔۔۔ اس وقت دارالحکومت ریاض میں ہزاروں پاکستانی مسافر مریض موت و زندگی کی کشمکش میں ہیں جن میں سینکڑوں کرونا کے مریض ہیں
نہ یہاں کی حکومت مدد کررہی ہے اور ناہی سفارت خانہ ۔۔۔ مزید دکھ اور شرم کی بات یہ ہے کہ تین ماہ سے بے روزگار یہ غریب پردیسی اگر واپسی آنا چاہتے ہیں تو انصافی سرکار کی اوورسیز وفاقی وزیر اعلان کرتے ہیں کہ خالی سیٹوں کا کرایہ دے سکتے ہو تو آجاؤ ورنہ مت آنا. 😭
نہ یہاں کی حکومت مدد کررہی ہے اور ناہی سفارت خانہ ۔۔۔ مزید دکھ اور شرم کی بات یہ ہے کہ تین ماہ سے بے روزگار یہ غریب پردیسی اگر واپسی آنا چاہتے ہیں تو انصافی سرکار کی اوورسیز وفاقی وزیر اعلان کرتے ہیں کہ خالی سیٹوں کا کرایہ دے سکتے ہو تو آجاؤ ورنہ مت آنا. 😭
انسانیت کا تقاضا تو یہ تھا کہ موجودہ نالائق سرکار کم از کم انسانی قدروں کا خیال کرتے ہوئے وہاں پھنسے اپنے لوگوں کو نکالتی ۔۔۔ یہی اوورسیز پاکستانی ہی تو تھے جو عمران خان صاحب کے لئے سب سے زیادہ ناچ رہے تھے کہ جب خان صاحب آئے گا تو ملک میں عمر بن عبدالعزیز رح کی حکومت لوٹے گی








No comments:
Post a Comment