یہ شخص کُھلے عام بکواس کر رہا ہے کہ نکاح کچھ بھی نہیں ہے. یہ شخص کہ رہا ہے. استغفراللہ بہن ہو یا بہو وہ جس سے چاہے ملے. جو چاہے کرے. جیسا چاہے لباس پہنے.ہم کون ہوتے ہیں اُسے روکنے والے.. ایسے گھٹیا الفاظ میرے خیال میں کوئی مرد نہیں بول سکتا.یاد رہے یہ وہی لوگ ہیں جب عدالت نے فیصلہ سُنایا کہ زنا کرنے والے کو پھانسی دی جائے گی تو انہی لوگوں کی چیخیں نکلیں تھیں. اور انہی لوگوں نے پھانسی کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا تھا.یہی ان کا
اصلی چہرہ ہے.
اصلی چہرہ ہے.
No comments:
Post a Comment